Saturday, July 18, 2026

درجہ 10 سبق نمبر 5 : غزل میر تقی میر

 

ہستی اپنی حباب کی سی ہے۔۔۔۔۔۔۔

[غزل کے اشعار کی تشریح]

شعر 1 :

ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے

حوالہ : یہ غزل ہماری کتاب میں شامل ہے اور اس کے شاعر کا نام میر تقی میر ہے۔
تشریح : میر اپنے غزل کے اس مطلع میں کہتے ہیں کہ ہماری زندگی یا ہماری ہستی ایک پانی کا بلبلہ ہے اور اس کا دکھاوا پانی کے دھوکے (سراب) کی طرح ہے جو دور سے نظر آتا ہے اور نزدیک جاتے جاتے 
غائب ہو جاتا ہے۔

شعر 2 :

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی ایک گلاب کی سی ہے

تشریح  :  میر اپنے اس شعر میں کہتے ہیں کہ میرے محبوب کے ہونٹ کی نزاکت کچھ ایسی ہے جیسے گلاب کی پنکھڑی میں نزاکت ہوتی ہے۔

  
شعر 3 :

بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے

تشریح  :  میر اپنے اس شعر میں کہتے ہیں کہ محبوب کی محبت میں میری بے قراری اس قدر بڑھ گئی ہے کہ میں بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں، آ جاتا ہوں پھر جاتا ہوں اور آ جاتا ہوں، مگر میری بے چینی اور بے قراری ختم ہی نہیں ہوتی۔


شعر 4 :

میں جو بولا کہا کہ یہ آواز
اسی خانہ خراب کی سی ہے

تشریح  :  میر کہتے ہیں کہ جب میں بولا تو میرے محبوب نے میری آواز سن کر یہ کہا کہ یہ آواز تو اسی برباد اور بدقسمت عاشق میر کی آواز ہے۔


شعر 5 :

میر ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے

تشریح  :  میر غزل کے آخری شعر مقطع میں کہتے ہیں کہ میرے محبوب کی ادھ کھلی آنکھوں میں جو 
مستی دکھائی دیتی ہے وہ سراسر شراب کی مستی کی طرح ہیں۔



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



سوالات و جوابات



سوال 1 : انسانی زندگی کی حقیقت کیا ہے؟
جواب : میر تقی میر کے شعر میں انسانی زندگی کو پانی کا بلبلا بتایا گیا ہے اور اس کی نمائش کو پانی کا دھوکہ یعنی سراب بتایا گیا ہے۔ یہی انسانی زندگی کی حقیقت ہے۔


سوال 2 : بے چینی کے عالم میں شاعر پر کیا بیت رہی ہے؟
جواب : بے چینی کے عالم میں شاعر بار بار اپنے محبوب کے دروازے پر جاتا ہے اور آجاتا ہے، یعنی اس کی بے چینی اور بےقراری برداشت سے باہر ہو رہی ہے۔


سوال 3 : شعر میں خانہ خراب کسے کہا گیا ہے؟
جواب : شعر میں خانہ خراب شاعر (میر تقی میر) کو کہا گیا ہے۔


 عملی کام



قواعد کے مطابق کسی بھی طرح کے نام کو اسم کہتے ہیں۔ میر نے اپنی اس غزل میں جتنے اسم استمال کیے ہیں ان کی فہرست بنائیں ۔

قواعد کے مطابق کسی بھی طرح کے نام کو اسم کہتے ہیں۔ میر نے اپنی اس غزل میں جتنے اسم استمال کیے ہیں، وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
ہستی، حباب، سراب، لب، پنکھڑی، گلاب، در، آواز، خانہ خراب، میر، آنکھیں، شراب


درجہ 10 سبق 4 قول کا پاس : سوال جواب

سبق نمبر 4


قول کا پاس 



سوالات و جوابات

سوال 1 : اکبر کس خاندان کا بادشاہ تھا؟

جواب : اکبر مغل خاندان کا بادشاہ تھا۔

سوال 2 : راجپوتوں کے سردار کا نام کیا تھا، وہ جنگل میں کیوں چھپ گیا تھا؟

جواب : راجپوتوں کے سردار کا نام رانا پرتاپ سنگھ تھا، وہ اپنی اور بچوں کی جان بچانے کے لئے جنگل میں چھپ گیا تھا۔

سوال 3 : رگھوپت نے پہرےدار کی مدد کس طرح کی؟

جواب : رگھوپت کوجب معلوم ہوا کہ پہرےدار کو گرفتار کر لیا ہے ، تو وہ مغل افسر کے پاس آیا اور کہا کہ میں رگھوپت ہوں مجھے پکڑ لو اور پہرےدار کو چھوڑ دو۔

سوال 4 : اکبر رگھوپت کی کس بات سے متاثر ہوا؟

جواب : اکبر رگھوپت کی اس بات سے متاثر ہوا کہ راجپوت اپنی بات کے دھنی ہوتے ہیں۔

سوال 5 : اکبر نے رگھوپت کا دل کس طرح جیت لیا؟

جواب : اکبر کی دریا دلی نے رگھوپت کا دل جیت لیا۔


نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجئے۔
سلطنت، فوج، پہرےدار، تدبیر، قصور

  • لفظ 1 : سلطنت
  • جملہ : مغل بادشاہ اکبر کی سلطنت بہت بڑی تھی۔
  • لفظ 2 : فوج
  • جملہ : ہر ملک اپنی حفاظت کے لیے فوج ضرور رکھتا ہے۔
  • لفظ 3 : پہرےدار
  • جملہ : پہرے دار کو بہادر، ایماندار، ہوشیار اور ذمہ دار ہونا چاہیے۔
  • لفظ 4 : تدبیر
  • جملہ : اچھی تدبیر سے تقدیر بدل سکتی ہے۔
  • لفظ 5 : قصور
  • جملہ : قصور کی سزا ضرور ملتی ہے۔


یچے لکھے ہوئے لفظوں کی مدد سے خالی جگہوں کو بھریں۔
[دروازے، وعدے، اکبر، سپاہی، رگھوپت]

 اکبربادشاہ مغلوں کا بہت مشہور بادشاہ گزرا ہے۔
 راجپوتوں کے ایک سردار کا نام رگھوپت تھا۔
بیوی نے کہا “ایسا نہ کرو دوسرے دروازے سے نکل جاؤ”۔
 دوسرے دن.سپاہی اور پہرے دار کو میدان میں لائے۔
 جو آدمی اپنےوعدے کے پکے ہوتے ہیں خدا ہمیشہ ان کی مدد کرتا ہے۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں سے واحد کی جمع بنائیں۔
  : جواب

واحد     جمع    
    فوج افواج    
تدبیر          تدابیر
مدد     امداد    
ملک      ممالک    
سفر     اسفار    


نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے مذکر سے مؤنث بنائے۔
   : جواب

مزکر مؤنث
بادشاہ ملکہ
مرد     عورت
گھو     گھوڑی
بیٹا                 بیٹی
لڑکا     لڑکی


یچے لکھے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے۔

پاؤں کا اُکھڑنا
بہادروں کے آگے کمزوروں کے پاؤں اُکھڑ جاتے ہیں۔

ڈھارس بندھانا
اکرم فیل ہوا تو دوستوں نے اس کی ڈھارس بندھائی۔

قول دینا
اکرم نے چار دن میں قرض لوٹانے کا قول دیا ہے۔

دل بھر آنا
 علی خان کو روتا دیکھ میرا دل بھر آیا۔

پھولا نہ سمانا
میری بھتیجی “ارم نرگش” پاس ہوئی تو میں پھولا نہ سمایا۔


نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے متضاد لکھۓ۔

جواب  : متضاد الفاظ

 سچائی جھوٹ
 دُکھ                            سُکھ
 بہادر      بزدل
 قید             آزاد
 دشمن دوست
 محبت نفرت

اسمِ عام اور اسمِ خاص الگ الگ کیجیۓ۔

اکبر، بادشاہ، رگھوپت، بہادر، راجپوتانہ، بیٹا، گھوڑا

اسمِ خاص اسمِ عام
اکبر     بادشاہ
رگھوپت بہادر
راجپوتانہ     بیٹا
گھوڑا     

منشی پریم چند کی حالات زندگی:

  • اصل نام : دھنپت رائے
  • ادبی نام : پریم چند
  • پیدائش : 1880ء بنارس کے گاؤں لمہی میں پیدا ہوے۔
  • وفات : 1936ء میں 56 برس کی عمر میں بنارس میں ہی انتقال ہوا۔

منشی پریم چند اردو کا مشہور ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کا اصلی نام دھنپت رائے ہے، لیکن ادبی دنیا میں پریم چند کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ 1880ء میں منشی عجائب لال کے وہاں ضلع وارانسی کے گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ایک ڈاک خانے میں کلرک تھے۔ پریم چند ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے تقریباً سات آٹھ برس فارسی پڑھنے کے بعد انگریزی تعلیم شروع کی۔ پندرہ سال کی عمر میں شادی ہو گئی۔ ایک سال بعد والد کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ پورے گھر بار کا بوجھ آپ پر ہی پڑ گیا۔ فکر معاش نے زیادہ پریشان کیا تو لڑکوں کو بطور ٹیوشن پڑھانے لگے اور میٹرک پاس کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں اسسٹنٹ ماسٹر کی حیثیت سے ملازم ہو گئے۔ پھر کانپور کے اسکول میں استاد کی حیثیت سے ملازم ہو گۓ۔ اور انہوں نےاسی دوران میں بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے بچپن ہی سے لکھنا شروع کر دیا تھا۔ گاؤں کے غریبوں اور کسانوں کی غریبی کو بہت قریب سے دیکھا اور گاؤں ، دیہات کی زندگی کو اپنے افسانے کا موضوع بنایا۔ پریم چند کی زبان بہت آسان تھی۔ پریم چند نے ایک درجن ناول اور تین سو سے زیادہ افسانے لکھیں۔ پریم چند کا انتقال 1936ء میں بنارس میں ہوا۔


































درجہ 10 سبق نمبر 3 نیکی اور بدی : مشقی سوالات


 نظم نیکی اور بدی  


 

▪️سوالات و جوابات▪️                                


سوال 1 : نظم کے پہلے بند میں دنیا کو کس طرح کی بستی بتایا گیا ہے؟
جواب : نظم کے پہلے بند میں دنیا کو الگ طرح کی بستی بتایا گیا ہے۔جو مہنگوں کے لیے مہنگی ہے اور سستوں کے لیے سستی ہے۔ یہاں ہر دم جھگڑے ہوتے ہیں ہر دم عدالت لگتی ہے۔ جو مست ہو اس کے لیے دنیا مستی اور جو پست ہو جائے اس کے لیے دنیا پستی ہے۔ یہاں نہ دیر ہے نہ اندھیر ہے۔ بلکہ انصاف ہے۔ جو اس ہاتھ سے کرتا ہے، اس کا بدلہ اُس ہاتھ سے ملتا ہے۔ یہاں سارے سودے ہاتھوں ہاتھ ہوتے ہیں۔


سوال 2 : “کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں” سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
جواب : شاعر کی مراد یہ ہے کہ آدمی کو اس کے عمل کا ویسا ہی نتیجہ ملنے میں دیر نہیں لگتی ہے اور خدا کے گھر میں  اندھیر نہیں ہے بلکہ انصاف سے کام کیا جاتا ہے۔


سوال 3 : کس کی ناؤ پار اُترتی ہے؟
جواب : اس شخص کی ناؤ پار اترتی ہے جو دوسرے کی ناؤ کو پار اتارتا ہے۔


سوال 4 : ظالم کو ظلم کا کیا بدلہ ملتا ہے؟
جواب : ظالم جیسا ظلم کرتا ہے اس کو ویسا ہی برا نتیجہ ملتا ہے۔


 نیچے لکھے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے۔


جیسی کرنی ویسی بھرنی
کامران نے محنت کی پاس ہو گیا اسے کہتے ہیں جیسی کرنی ویسی بھرنی۔

بول بالا ہونا
محمد رفیع کے خوبصورت نغموں نے ان کا بول بالا کر دیا۔

پار اُتارنا
مناسب کوشش سے کشتی پار اُتر جاتی ہے۔

مان رکھنا
میرے کہنے پر اس نے کام پورا کر دیا، یعنی اس نے میرا مان رکھ لیا۔


 خالی جگہوں میں اسم یا فعل بھرئے


۔ یہ دنیا اور طرح کی  بستی  ہے۔
۔ یہاں ہر دم جھگڑے  اٹھتے  رہتے ہیں۔
۔ جو اوروں کو پار اتارتا ہے اس کی ناؤ بھی پاراُتر جاتی ہے۔




 عملی کام



آپ کو جو محاورے یاد ہیں ان میں سے تین محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے۔


باغ باغ ہونا
کامران پاس ہوا تو باغ باغ ہو گیا۔

دانتوں تلے انگلی دبانا
قدرت کے کرشمے دیکھ کر دانتوں تلے انگلی دبانی پڑتی ہے۔

نو دو گیارہ ہونا
پولیس کو دیکھتے ہی چور نو دو گیارہ ہو گیا۔
x

درجہ 10 سبق نمبر 5 : غزل میر تقی میر

  ہستی اپنی حباب کی سی ہے۔۔۔۔۔۔۔ [غزل کے اشعار کی تشریح] شعر 1 : ہستی اپنی حباب کی سی ہے یہ نمائش سراب کی سی ہے حوالہ : یہ غزل ہماری کتاب می...