AKMALEDUWORLD
Saturday, July 18, 2026
درجہ 10 سبق نمبر 5 : غزل میر تقی میر
درجہ 10 سبق 4 قول کا پاس : سوال جواب
سبق نمبر 4
قول کا پاس
سوالات و جوابات
سوال 1 : اکبر کس خاندان کا بادشاہ تھا؟
جواب : اکبر مغل خاندان کا بادشاہ تھا۔
سوال 2 : راجپوتوں کے سردار کا نام کیا تھا، وہ جنگل میں کیوں چھپ گیا تھا؟
جواب : راجپوتوں کے سردار کا نام رانا پرتاپ سنگھ تھا، وہ اپنی اور بچوں کی جان بچانے کے لئے جنگل میں چھپ گیا تھا۔
سوال 3 : رگھوپت نے پہرےدار کی مدد کس طرح کی؟
جواب : رگھوپت کوجب معلوم ہوا کہ پہرےدار کو گرفتار کر لیا ہے ، تو وہ مغل افسر کے پاس آیا اور کہا کہ میں رگھوپت ہوں مجھے پکڑ لو اور پہرےدار کو چھوڑ دو۔
سوال 4 : اکبر رگھوپت کی کس بات سے متاثر ہوا؟
جواب : اکبر رگھوپت کی اس بات سے متاثر ہوا کہ راجپوت اپنی بات کے دھنی ہوتے ہیں۔
سوال 5 : اکبر نے رگھوپت کا دل کس طرح جیت لیا؟
جواب : اکبر کی دریا دلی نے رگھوپت کا دل جیت لیا۔
نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجئے۔سلطنت، فوج، پہرےدار، تدبیر، قصور
- لفظ 1 : سلطنت
- جملہ : مغل بادشاہ اکبر کی سلطنت بہت بڑی تھی۔
- لفظ 2 : فوج
- جملہ : ہر ملک اپنی حفاظت کے لیے فوج ضرور رکھتا ہے۔
- لفظ 3 : پہرےدار
- جملہ : پہرے دار کو بہادر، ایماندار، ہوشیار اور ذمہ دار ہونا چاہیے۔
- لفظ 4 : تدبیر
- جملہ : اچھی تدبیر سے تقدیر بدل سکتی ہے۔
- لفظ 5 : قصور
- جملہ : قصور کی سزا ضرور ملتی ہے۔
یچے لکھے ہوئے لفظوں کی مدد سے خالی جگہوں کو بھریں۔[دروازے، وعدے، اکبر، سپاہی، رگھوپت]
اکبربادشاہ مغلوں کا بہت مشہور بادشاہ گزرا ہے۔ راجپوتوں کے ایک سردار کا نام رگھوپت تھا۔بیوی نے کہا “ایسا نہ کرو دوسرے دروازے سے نکل جاؤ”۔ دوسرے دن.سپاہی اور پہرے دار کو میدان میں لائے۔ جو آدمی اپنےوعدے کے پکے ہوتے ہیں خدا ہمیشہ ان کی مدد کرتا ہے۔
نیچے لکھے ہوئے لفظوں سے واحد کی جمع بنائیں۔ : جواب
واحد جمع فوج افواج تدبیر تدابیرمدد امداد ملک ممالک سفر اسفار
نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے مذکر سے مؤنث بنائے۔ : جواب
مزکر مؤنثبادشاہ ملکہمرد عورتگھو گھوڑیبیٹا بیٹیلڑکا لڑکی
یچے لکھے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے۔
پاؤں کا اُکھڑنابہادروں کے آگے کمزوروں کے پاؤں اُکھڑ جاتے ہیں۔
ڈھارس بندھانااکرم فیل ہوا تو دوستوں نے اس کی ڈھارس بندھائی۔
قول دینااکرم نے چار دن میں قرض لوٹانے کا قول دیا ہے۔
دل بھر آنا علی خان کو روتا دیکھ میرا دل بھر آیا۔
پھولا نہ سمانامیری بھتیجی “ارم نرگش” پاس ہوئی تو میں پھولا نہ سمایا۔
نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے متضاد لکھۓ۔
جواب : متضاد الفاظ
سچائی جھوٹ دُکھ سُکھ بہادر بزدل قید آزاد دشمن دوست محبت نفرت
اسمِ عام اور اسمِ خاص الگ الگ کیجیۓ۔
اکبر، بادشاہ، رگھوپت، بہادر، راجپوتانہ، بیٹا، گھوڑا
اسمِ خاص اسمِ عاماکبر بادشاہرگھوپت بہادرراجپوتانہ بیٹاگھوڑا
منشی پریم چند کی حالات زندگی:
- اصل نام : دھنپت رائے
- ادبی نام : پریم چند
- پیدائش : 1880ء بنارس کے گاؤں لمہی میں پیدا ہوے۔
- وفات : 1936ء میں 56 برس کی عمر میں بنارس میں ہی انتقال ہوا۔
منشی پریم چند اردو کا مشہور ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کا اصلی نام دھنپت رائے ہے، لیکن ادبی دنیا میں پریم چند کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ 1880ء میں منشی عجائب لال کے وہاں ضلع وارانسی کے گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ایک ڈاک خانے میں کلرک تھے۔ پریم چند ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے تقریباً سات آٹھ برس فارسی پڑھنے کے بعد انگریزی تعلیم شروع کی۔ پندرہ سال کی عمر میں شادی ہو گئی۔ ایک سال بعد والد کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ پورے گھر بار کا بوجھ آپ پر ہی پڑ گیا۔ فکر معاش نے زیادہ پریشان کیا تو لڑکوں کو بطور ٹیوشن پڑھانے لگے اور میٹرک پاس کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں اسسٹنٹ ماسٹر کی حیثیت سے ملازم ہو گئے۔ پھر کانپور کے اسکول میں استاد کی حیثیت سے ملازم ہو گۓ۔ اور انہوں نےاسی دوران میں بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔
انہوں نے بچپن ہی سے لکھنا شروع کر دیا تھا۔ گاؤں کے غریبوں اور کسانوں کی غریبی کو بہت قریب سے دیکھا اور گاؤں ، دیہات کی زندگی کو اپنے افسانے کا موضوع بنایا۔ پریم چند کی زبان بہت آسان تھی۔ پریم چند نے ایک درجن ناول اور تین سو سے زیادہ افسانے لکھیں۔ پریم چند کا انتقال 1936ء میں بنارس میں ہوا۔
- اصل نام : دھنپت رائے
- ادبی نام : پریم چند
- پیدائش : 1880ء بنارس کے گاؤں لمہی میں پیدا ہوے۔
- وفات : 1936ء میں 56 برس کی عمر میں بنارس میں ہی انتقال ہوا۔
منشی پریم چند اردو کا مشہور ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کا اصلی نام دھنپت رائے ہے، لیکن ادبی دنیا میں پریم چند کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ 1880ء میں منشی عجائب لال کے وہاں ضلع وارانسی کے گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ایک ڈاک خانے میں کلرک تھے۔ پریم چند ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے تقریباً سات آٹھ برس فارسی پڑھنے کے بعد انگریزی تعلیم شروع کی۔ پندرہ سال کی عمر میں شادی ہو گئی۔ ایک سال بعد والد کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ پورے گھر بار کا بوجھ آپ پر ہی پڑ گیا۔ فکر معاش نے زیادہ پریشان کیا تو لڑکوں کو بطور ٹیوشن پڑھانے لگے اور میٹرک پاس کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں اسسٹنٹ ماسٹر کی حیثیت سے ملازم ہو گئے۔ پھر کانپور کے اسکول میں استاد کی حیثیت سے ملازم ہو گۓ۔ اور انہوں نےاسی دوران میں بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔
انہوں نے بچپن ہی سے لکھنا شروع کر دیا تھا۔ گاؤں کے غریبوں اور کسانوں کی غریبی کو بہت قریب سے دیکھا اور گاؤں ، دیہات کی زندگی کو اپنے افسانے کا موضوع بنایا۔ پریم چند کی زبان بہت آسان تھی۔ پریم چند نے ایک درجن ناول اور تین سو سے زیادہ افسانے لکھیں۔ پریم چند کا انتقال 1936ء میں بنارس میں ہوا۔
درجہ 10 سبق نمبر 3 نیکی اور بدی : مشقی سوالات
نظم نیکی اور بدی
▪️سوالات و جوابات▪️
نیچے لکھے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے۔
خالی جگہوں میں اسم یا فعل بھرئے
عملی کام
درجہ 10 سبق نمبر 5 : غزل میر تقی میر
ہستی اپنی حباب کی سی ہے۔۔۔۔۔۔۔ [غزل کے اشعار کی تشریح] شعر 1 : ہستی اپنی حباب کی سی ہے یہ نمائش سراب کی سی ہے حوالہ : یہ غزل ہماری کتاب می...
-
سبق نمبر 4 قول کا پاس سوالات و جوابات سوال 1 : اکبر کس خاندان کا بادشاہ تھا؟ جواب : اکبر مغل خاندان کا بادشاہ تھا۔ سوال 2 : راجپوتوں کے سرد...
-
نظم نیکی اور بدی ▪️سوالات و جوابات▪️ سوال 1 : نظم کے پہلے بند میں دنیا کو کس طرح کی بستی بتایا...
-
ہستی اپنی حباب کی سی ہے۔۔۔۔۔۔۔ [غزل کے اشعار کی تشریح] شعر 1 : ہستی اپنی حباب کی سی ہے یہ نمائش سراب کی سی ہے حوالہ : یہ غزل ہماری کتاب می...