نظم نیکی اور بدی
▪️سوالات و جوابات▪️
سوال 1 : نظم کے پہلے بند میں دنیا کو کس طرح کی بستی بتایا گیا ہے؟
جواب : نظم کے پہلے بند میں دنیا کو الگ طرح کی بستی بتایا گیا ہے۔جو مہنگوں کے لیے مہنگی ہے اور سستوں کے لیے سستی ہے۔ یہاں ہر دم جھگڑے ہوتے ہیں ہر دم عدالت لگتی ہے۔ جو مست ہو اس کے لیے دنیا مستی اور جو پست ہو جائے اس کے لیے دنیا پستی ہے۔ یہاں نہ دیر ہے نہ اندھیر ہے۔ بلکہ انصاف ہے۔ جو اس ہاتھ سے کرتا ہے، اس کا بدلہ اُس ہاتھ سے ملتا ہے۔ یہاں سارے سودے ہاتھوں ہاتھ ہوتے ہیں۔
سوال 2 : “کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں” سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
جواب : شاعر کی مراد یہ ہے کہ آدمی کو اس کے عمل کا ویسا ہی نتیجہ ملنے میں دیر نہیں لگتی ہے اور خدا کے گھر میں اندھیر نہیں ہے بلکہ انصاف سے کام کیا جاتا ہے۔
سوال 3 : کس کی ناؤ پار اُترتی ہے؟
جواب : اس شخص کی ناؤ پار اترتی ہے جو دوسرے کی ناؤ کو پار اتارتا ہے۔
سوال 4 : ظالم کو ظلم کا کیا بدلہ ملتا ہے؟
جواب : ظالم جیسا ظلم کرتا ہے اس کو ویسا ہی برا نتیجہ ملتا ہے۔
نیچے لکھے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے۔
جیسی کرنی ویسی بھرنی
کامران نے محنت کی پاس ہو گیا اسے کہتے ہیں جیسی کرنی ویسی بھرنی۔
بول بالا ہونا
محمد رفیع کے خوبصورت نغموں نے ان کا بول بالا کر دیا۔
پار اُتارنا
مناسب کوشش سے کشتی پار اُتر جاتی ہے۔
مان رکھنا
میرے کہنے پر اس نے کام پورا کر دیا، یعنی اس نے میرا مان رکھ لیا۔
خالی جگہوں میں اسم یا فعل بھرئے
۔ یہ دنیا اور طرح کی بستی ہے۔
۔ یہاں ہر دم جھگڑے اٹھتے رہتے ہیں۔
۔ جو اوروں کو پار اتارتا ہے اس کی ناؤ بھی پاراُتر جاتی ہے۔
عملی کام
آپ کو جو محاورے یاد ہیں ان میں سے تین محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے۔
باغ باغ ہونا
کامران پاس ہوا تو باغ باغ ہو گیا۔
دانتوں تلے انگلی دبانا
قدرت کے کرشمے دیکھ کر دانتوں تلے انگلی دبانی پڑتی ہے۔
نو دو گیارہ ہونا
پولیس کو دیکھتے ہی چور نو دو گیارہ ہو گیا۔
x
No comments:
Post a Comment